ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک کا بحران مزید سنگین؛ باغیوں کو جگہ دینے وزراء مستعفی؛ کماراسوامی حکومت اقلیت میں آنے کی صورت میں کیا ہوگا ؟

کرناٹک کا بحران مزید سنگین؛ باغیوں کو جگہ دینے وزراء مستعفی؛ کماراسوامی حکومت اقلیت میں آنے کی صورت میں کیا ہوگا ؟

Tue, 09 Jul 2019 03:05:15    S.O. News Service

بنگلور 8/جولائی (ایس او نیوز) کرناٹک میں گذشتہ دو دنوں سے جاری ناٹک مزید سنگین رُخ اختیار کرگیا جب کانگریس۔جے ڈی ایس   اراکین کے بعد دو آزاد اراکین اسمبلی نے بھی مبینہ طور پر حکومت کا ساتھ چھوڑ دیا اور باغیانہ تیور دکھاتے ہوئے بی جے پی کے ساتھ  اپنی حمایت کا اعلان کردیا۔ مستعفی ہونے والے آزاد ایم ایل اے میں   ایچ ناگیش  بھی شامل ہیں جنہیں گذشتہ مہینے ہی کابینہ میں شامل کیا گیا تھا۔

ایک طرف  کانگریس اور جنتادل سیکولر اتحاد کرناٹک میں اپنی حکومت کو بچانے کے لئے ایڑ ی چوٹی کا زور لگاتی نظر آرہی ہیں،   وہیں آزاد اُمیداروں کے ساتھ چھوڑ جانے کے بعد بی جے پی دعویٰ کررہی ہے  کہ   کماراسوامی حکومت  اب  اقلیت میں آگئی ہے لہٰٰذا وزیراعلیٰ استعفی دیں۔

اُدھر مخلوط حکومت کو بچانے اور ناراض اراکین اسمبلی کو کابینہ میں جگہ دینے کے لئے کماراسوامی حکومت کی کابینہ کے تمام وزیروں نے استعفیٰ دے دیا ہے  مگر آزاد اراکین کے ساتھ چھوڑ جانے سے کماراسوامی کی حکومت اقلیت میں آجانے کا خطرہ محسوس کیا جارہا ہے جس سے بی جے پی کی اقتدار حاصل کرنے کی اُمیدیں بڑھ گئی ہیں۔  ممبئی میں مقیم ناراض اراکین اسمبلی کی جانب سے فی الحال کوئی مثبت اشارہ بھی نہیں ملا ہے البتہ سبھی اراکین اسمبلی ممبئی سے گوا منتقل ہونے کی اطلاعات کے بعد کرناٹک حکومت کو لاحق خطرات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

کانگریس کے سنئیر لیڈر ڈی کے شیوکمار جنہوں نے کانگریس ۔جے ڈی ایس مخلوط حکومت کے قیام کے لئے اور اس کے بعد بھی حکومت کو گرنے سے بچانے کے لئے اہم رول ادا کیا تھا، پیر کو الزام لگایا کہ  بی جےپی  نے آزاد رکن اسمبلی اور وزیر ایچ ناگیش کا اغوا کرلیا ہے۔ ایسے میں ریاستی حکومت کی جانب سے اس بات کا دعویٰ بھی کیا جارہا ہے کہ  حکومت محفوظ ہے۔

پیرکو پورے دن چلنے والی میٹنگوں کے بعد بھی ساری نگاہیں اسپیکر کے فیصلے پر مرکوز ہیں۔ اگر اسپیکر 14 ناراض اراکین اسمبلی اور 2/ آزاد اراکین کے استعفوں کو منظور کرلیتے ہیں تو کماراسوامی حکومت اقلیت میں آجائے  گی۔ ایسے میں واضح اشارے بھی مل چکے ہیں کہ آزاد اراکین اسمبلی بھی بی جے پی کی  حمایت کریں گے، ایسی صورت میں بی جے پی کے لئے اپنی اکثریت ثابت کرنا آسان ہوجائے گا۔

ریاستی وزیروں کے استعفیٰ کے تعلق سے کانگریس کے جنرل سکریٹری اور کرناٹک اُمور کے ذمہ دار کے سی وینو گوپال نے بتایا کہ  پارٹی کے وسیع تر مفادات کو  ملحوظ رکھتے ہوئے ہم نے اتوار اور  پیر  کی میٹنگوں میں اہم فیصلے کئے ہیں۔ مذکورہ میٹنگ میں کانگریس کے سنئیر لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ سدرامیا بھی موجود تھے۔ ایسا بھی سننے میں آرہا ہے کہ  کانگریس کے باغی اراکین کا تعلق سدرامیا کے کیمپ سے ہے۔

اُدھر ناراض اراکین اسمبلی  ممبئی سے گوا منتقل ہونے کی اطلاعات  سامنے آنے کے بعد اس بات کا بھی پتہ چلا ہے کہ  انہیں ایک لکثری بس کے ذریعے گوا لے جایا گیا ۔ پورے معاملے میں ایک طرف بی جے پی خود کے ملوث ہونے سے انکار کررہی ہے مگر اراکین اسمبلی کے ممبئی سے گوا منتقل ہونے پر ایک بار پھر بی جے پی  کی طرف ہی انگلیاں اُٹھ رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ممبئی بی جے پی یوا مورچہ کے صدر موہت بھارتیہ نے اراکین اسمبلی کو ممبئی سے گوا منتقل کرنے اور وہاں ان کی رہائش کا بندوبست کیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ  مہاراشٹرا بی جےپی کے رکن اسمبلی نے کانگریس اور جے ڈی ایس کے باغی اراکین کی منتقلی کی تصدیق  بھی کی ہے۔

خیال رہے  کہ حال ہی میں ہوئے لوک سبھا انتخابات میں  کانگریس اور جے ڈی ایس دونوں کو محض ایک ایک سیٹ پر اکتفا کرنا پڑا تھا جس سے یہ بات ثابت ہوگئی تھی کہ ریاست میں دونوں ہی پارٹیاں نہایت ہی  کمزور ہوچکی  ہیں ایسے میں دونوں پارٹیاں وسط مدتی اسمبلی انتخاب کا خطرہ مول نہیں لے  سکتی اور اگر مستعفی ہونے والوں کا استعفیٰ قبول کرلیا جاتا ہے تو پھر کماراسوامی اپنی حکومت کو نہیں بچا پائیں گے کیونکہ اس کے بعد یا تو بی جے پی کو اقتدار میں آنے کا موقع مل جائے  گا یا پھر صدر راج نافذ ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ  بی جے پی پر ہر اُس ریاست میں برسر اقتدار پارٹی یا اتحاد کے اراکین کو رجھانے کی کوشش کا الزام ہے جہاں غیر  بی جےپی حکومت قائم ہے۔


Share: